64

ماضی کے مغرور کپتان عمران خان کے بارے میں اھم انکشافات،معروف صحافی ایم اقبال انجم سے

بهاول پور/رپورٹ ایم اقبال انجم  سے. ماضی کے مغرور کپتان عمران خان کے بارے میں اھم انکشافات

1983 میں بالی وڈ اداکاروں کے جھرمٹ میں ایک ٹی وی کی تقریب میں خان کو مدعو کیا گیا، جب بھی کیمرہ خان کی طرف پڑتا، خان یا تو اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیتا، یا اپنا ہاتھ چہرے پر رکھ کر کیمرے سے چھپا لیتا۔

اسی تقریب میں زینت امان سے لے کر ریکھا تک، ہر کوئی عمران خان کے ساتھ بیٹھنا چاہ رہی تھی لیکن خان نے کونے میں لگی ایک ٹیبل منتخب کی جہاں چند انڈین کرکٹرز موجود تھے۔

1987 تک عمران خان کے بارے میں پاکستان اور پوری دنیا کا یہی تاثر تھا کہ وہ انتہائی مغرور، بددماغ، اکھڑ اور بدتمیز شخص ہے جو اپنے علاوہ دنیا میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔

ایک ایسا مغرور اور بددماغ شخص کل سعودی پرنس کو کرسی پر بٹھا کر خود کھڑا ہوتا ہے اور اپنے ساڑھے تین منٹ کے خطاب میں پندرہ مرتبہ ” پلیز “، ” یور ہائی نیس ” ، ” میں آپ کا احسان مند ہوں گا ” جیسے ناقابل یقین الفاظ دہراتا ہے تاکہ پرنس سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کی مشکلات آسان کردے، ان کیلئے قوانین میں نرمی کردے اور جیلوں میں بند قیدیوں کے ساتھ آسانی کے معاملات کردے۔

اکھڑ، مغرور اور اپنی ذات میں قید رہنے والا عمران خان جب ہاتھ جوڑے اپنی قوم کے مزدوروں کیلئے سعودی پرنس کو یہ درخواست کررہا تھا تو اس وقت وہاں موجود پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ سعودی سفارتکاروں کی بھی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

آج سعودی پرنس نے 21 سو سے زائد پاکستانی قیدیوں کو آزاد کرنے کا اعلان کردیا ھے

آپ عمران خان کو بھکاری کہیں یا منگتا، میرے نزدیک عمران خان اس قوم کیلئے وہی حیثیت رکھتا ھے جو اولاد کیلئے اس کے باپ کی ہوتی ھے

جس طرح باپ سارا دن محنت کرکے، دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ برداشت کرکے شام کو اپنے بچوں کیلئے رزق اور آسائشیں خرید کر لاتا ھے، بالکل اسی طرح عمران خان اپنے غرور کو اپنے ہی پاؤں تلے کچل کر در بدر پاکستانی قوم کیلئے آسانیاں مانگ رہا ھے۔

عمران خان کے ساتھ اللہ کیوں نہ ہو، جب وہ اللہ کی مخلوق کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کررہا ہے تو پھر اللہ بھی انشا اللہ خان کا ساتھ دیتا رھے گا!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں